ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں ( کہ قبول ہو گا یا نہیں ) “ ( المؤمنون: ۶۰ ) ، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات ( بھلے کاموں ) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن سعید نے بھی اس حدیث کو ابوحازم سے، ابوحازم نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Jami At TirmidhiHadith 3175
3175
Sahih+2
SahihAhmad Muhammad Shakir
SahihAl-Albani