ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی امر پر قسم کھائے، اور اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے ( جسے وہ بہتر سمجھتا ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا صحیح ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: «حانث» ہونے ( یعنی قسم توڑنے ) کے بعد ہی کفارہ ادا کیا جائے گا، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر کوئی «حانث» ہونے ( یعنی قسم توڑنے ) کے بعد کفارہ ادا کرے تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے اور اگر «حانث» ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے تو بھی درست ہے ۱؎۔
Jami At TirmidhiHadith 1530
1530
Sahih+3
SahihAhmad Muhammad Shakir
SahihAl-Albani