سلمہ بن نفیل کندی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! لوگوں نے گھوڑوں کی اہمیت اور قدر و قیمت ہی گھٹا دی، ہتھیار اتار کر رکھ دیے اور کہتے ہیں: اب کوئی جہاد نہیں رہا، لڑائی موقوف ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور ( پورے طور پر متوجہ ہو کر ) فرمایا: ”غلط اور جھوٹ کہتے ہیں، ( صحیح معنوں میں ) لڑائی کا وقت تو اب آیا ہے ۱؎، میری امت میں سے تو ایک امت ( ایک جماعت ) حق کی خاطر ہمیشہ برسرپیکار رہے گی اور اللہ تعالیٰ کچھ قوموں کے دلوں کو ان کی خاطر کجی میں مبتلا رکھے گا ۲؎ اور انہیں ( اہل حق کو ) ان ہی ( گمراہ لوگوں ) کے ذریعہ روزی ملے گی ۳؎، یہ سلسلہ قیامت ہونے تک چلتا رہے گا، جب تک اللہ کا وعدہ ( متقیوں کے لیے جنت اور مشرکوں و کافروں کے لیے جہنم ) پورا نہ ہو جائے گا، قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی ( خیر ) بندھی ہوئی ہے ۴؎ اور مجھے بذریعہ وحی یہ بات بتا دی گئی ہے کہ جلد ہی میرا انتقال ہو جائے گا اور تم لوگ مختلف گروہوں میں بٹ کر میری اتباع ( کا دعویٰ ) کرو گے اور حال یہ ہو گا کہ سب ( اپنے متعلق حق پر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ) ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہوں گے اور مسلمانوں کے گھر کا آنگن ( جہاں وہ پڑاؤ کر سکیں، ٹھہر سکیں، کشادگی سے رہ سکیں ) شام ہو گا“ ۵؎۔
Sunan an NasaiHadith 3561
3561
Sahih+2
SahihAbu Ghuddah
SahihAl-Albani