Sunan an Nasai
Sahih
1818

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے، ( کیونکہ ) یا تو وہ نیک ہو گا تو ہو سکتا ہے زیادہ نیکی کرے، یا برا ہو گا تو ہو سکتا ہے وہ برائی سے توبہ کر لے ۱؎۔

Sahih
1819

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ( کیونکہ ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے ( اور ) زیادہ نیکی کرے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے ۔

Sahih
1820

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے ۱؎، بلکہ یہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي‏» اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔

Sahih
1821

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو نہ کرے، اس مصیبت کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہے، اگر موت کی آرزو کرنا ضروری ہو تو یہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔

Sahih Isnaad
1822

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم موت کی دعا نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تمنا ( مگر ) جسے دعا کرنا ضروری ہو وہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور موت دیدے جب میرے لیے موت بہتر ہو ۔

Sahih
1823

قیس بن ابی حازم کہتے ہیں میں خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوا رکھے تھے وہ کہنے لگے: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے نہ روکا ہوتا تو میں ( شدت تکلیف سے ) اس کی دعا کرتا۔

Hasan Sahih
1824

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو کاٹنے والی ۱؎ کو خوب یاد کیا کرو ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن ابراہیم ابوبکر بن ابی شیبہ کے والد ہیں۔

Sahih
1825

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ چنانچہ جب ابوسلمہ مر گئے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ تو آپ نے فرمایا ـ: تو کہو: «اللہم اغفر لنا وله وأعقبني منه عقبى حسنة» اے اللہ! ہماری اور ان کی مغفرت فرما، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا ۱؎۔

Sahih
1826

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو ۱؎۔

Sahih
1827

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو ۔

Previous section
Page 1 of 28
Next section