زہیر بن حرب اور محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابو زنا د سے حدیث بیان کی انھوں نے اعراج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی وہ اس ( سلسلہ سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جا تے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا ہے اے آدم کے بیٹے !تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔ اور آپ نے فر ما یا : "" اللہ کا دایاں ہاتھ ( اچھی طرح ) بھرا ہوا ہے ۔ ابن نمیر نے ملاي کے بجا ئے ملان ( کا لفظ ) کہا ۔ ۔ اس کا فیض جا ری رہتا ہے دن ہو یا را ت کو ئی چیز اس میں کمی نہیں کرتی ۔
(وہب بن منبہ کے بھا ئی ہمام بن منبہ سے روایت ہے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں پھر انھوں نے چند احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ نے مجھ سے کہا ہے خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ کا دا یا ں ہاتھ بھرا ہوا دن رات عطا کی بارش برسانے والا ہے اس میں کو ئی چیز کمی نہیں کرتی ۔ کیا تم نے دیکھا آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر ( اب تک ) اس نے کتنا خرچ کیا ہے ؟جو کچھ اس کے دا ئیں ہا تھ میں ہے اس ( عطا ) نے اس میں کو ئی کمی نہیں کی ۔ آپ نے فر ما یا : اس کا عرش پا نی پر ہے اس کے دوسرے ہا تھ میں قبضہ ( یا واپسی کی قوت ) ) ہے وہ ( جسے چا ہتا ہے ) بلند کرتا ہے اور ( جسے چا ہتا ہے ) پست کرتا ہے ۔