Sahih Muslim
979.01

سفیان بن عینیہ نے کہا : میں نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے پوچھا تو انھوں نے مجھے اپنے والد سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ وسق سے کم ( غلے یا کھجور ) میں صدقہ ( زکاۃ ) نہیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ ہی پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں صدقہ ہے ۔

979.02

یحییٰ بن سعید نے عمرو بن یحییٰ سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مانند بیان کیا ۔

979.03

ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے اپنے والد یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی سے اپنی پانچوں انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ پھر ( ابن جریج نے سفیان ) بن عینیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

979.04

عمارہ بن غزیہ نے یحییٰ بن عمارہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ وسق سے کم ( کھجور یا غلے ) میں صدقہ نہیں اور پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ نہیں اور پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں صدقہ نہیں ۔

979.05

وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے اسماعیل بن امیہ سے ، انھوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے ، انھوں نے یحییٰ بن عمارہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ وسق سے کم کھجور اور غلے میں صدقہ نہیں ہے ۔

979.06

عبدالرحمان بن مہدی نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہ غلے میں صدقہ ہے نہ کھجور میں حتیٰ کہ وہ پانچ وسق تک پہنچ جائیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں صدقہ ہے ۔

979.07

یحییٰ بن آدم نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے اسماعیل بن امیہ سے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ ابن مہدی کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

979.08

عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ثوری اور معمر نے اسماعیل بن امیہ سے اسی سندکے ساتھ ، ابن مہدی اور یحییٰ بن آدم کی حدیث کی طرح بیان کیا ، البتہ انھوں نے تمر ( کھجور ) کے بجائے ثمر ( پھل ) کہا ۔