Sahih Muslim
762.01

اوزاعی نے کہا : مجھ سے عبدہ ( بن ابی لبابہ ) نے زر ( بن جیش ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے جب کہ ان سے کہاگیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں : جس نے سال بھر قیام کیا اس نے شب قدر کو پالیا تو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!وہ رات ر مضان میں ہے ۔ ۔ ۔ وہ بغیر کسی استثناء کے حلف اٹھاتے تھے ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ رات کون سی ہے ، یہ وہی رات ہے جس میں قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں صبح کی رات ہے اور ا س کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح کو سورج سفید طلوع ہوتا ہے ، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی ۔

762.02

محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو زرین حبیش سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( زرنے ) کہا : حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا : اللہ کی قسم!میں اس کے بارے میں جانتا ہوں اور میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں رات ہے ۔ شعبہ نے "" یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا "" فقرے کے بارے میں شک کیا ، انھوں نے کہا : مجھے یہ روایت میرے ساتھی نے ان ( عبدہ بن ابی لبابہ کے حوالے ) سے سنائی تھی ۔

762.03

۔ ( عبیداللہ کے والد ) معاذ نے کہا : ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ سابقہ روایت کی مانند حدیث بیان کی لیکن اس میں انما شك شعبة ( شعبہ نے اس کے بارے میں شک کیا ) اور اس کے بعد کی عبارت بیان نہیں کی ۔

762.04

سفیان بن عیینہ نے عبد ہ اور عا صم بن ابی نجود سے روایت کی ، ان دو نوں نے حضرت زربن حبیش ؒ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا : آپ کے بھا ئی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو سال بھر ( رات کو ) قیام کرے گا ۔ وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا ۔ انھوں نے فر ما یا : " اللہ ان پر رحم فر ما ئے انھوں نے چا ہا کہ لو گ ( کم راتوں کی عبادت پر ) قناعت نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جا نتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستا ئیسویں رات ہے ۔ پھر انھوں نے استثناکیے ( ان شاء اللہ کہے ) بغیر قسم کھا کر کہا : وہ ستا ئیسویں رات ہی ہے اس پر میں نے کہا : ابو منذرا ! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتا ئی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے اس کی شعائیں ( نما یاں ) نہیں ہو تیں ۔

762.05

شعبہ نے کہا : میں نے عبد ہ بن ابی لبابہ سے سنا ، وہ حضرت زر بن حبیشؒ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃالقدر کے بارے میں کہا : اللہ کی قسم!میں اس کو جا نتا ہوں شعبہ نے ( روایت کے الفا ظ بیان کرتے ہو ئے ) کہا : میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس ( پر پوری رات ) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا ( اور ) وہ ستائیسویں رات ہے ۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا : یہ وہی را ت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ۔ "" اور کہا : اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان ( عبد ہ ) کے حوالے سے حدیث بیان کی ۔