Sahih Muslim
2009.04

زہیر بن حرب نے مجھے یہی حدیث عثمان بن عمر سے بیان کی ، نیز ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، ان دونوں ( عثمان اور نضر ) نے اسرائیل سے روایت کی ، انھوں نے ابو اسحاق سے روایت کی ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے والد سے تیرہ درہم میں ایک کجاوا خریدا ۔ پھر زہیر کی ابو اسحاق سے روایت کردہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں انھوں نے کہا : عثمان بن عمر کی روایت میں ہے ، جب وہ ( سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعا کی ، ان کے گھوڑے کی ٹانگیں پیٹ تک زمین میں دھنس گئیں ۔ وہ اچھل کر اس سے اترے اور کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ پتہ چل گیا ہے کہ یہ آپ کا کا م ہے ۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مشکل سے ، میں جس میں پھنس گیا ہوں ، چھٹکارہ عطا کردے اور آپ کی طرف سے یہ بات میرے ذمے ہوئی کہ میرے پیچھے جو بھی ( آپ کا تعاقب کررہا ) ہے میں اس کی آنکھوں کو ( آپ کی طرف ) دیکھنے سے روک دوں گا اور یہ میرا ترکش ہے ، اس میں سے ایک تیر نکال لیں ، آپ فلاں مقام پر میرے اونٹوں اور میرے غلاموں کے پاس سے گزریں گے ، ان میں سے جس کی ضرورت ہو اسے لے لیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ۔ " چنانچہ ہم رات کے وقت مدینہ ( کے قریب ) پہنچے ۔ لوگوں نے اس کے بارے میں تنازع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کے ہاں اتریں گے ( مہمان بنیں گے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں ( اپنے د ادا ) عبدالمطلب کے ننھیال بنو نجار کا مہمان بن کر ان کی عزت افزائی کروں گا ۔ " مرد ، عورتیں گھروں کے اوپر چڑھ گئے اور غلام اور نوکر چاکر راستوں میں بکھر گئے ۔ وہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( مرحبا ) اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( مرحبا ) ۔