Sahih Muslim
2942.03

غیلان بن جریر نے شعبی سے اور انھوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ سمندر ( کےجہاز ) میں سوار ہوئے تو ان کا جہاز راستے سے ہٹ گیا ، وہ ایک جزیرے میں جا اترے ، وہ اس جزیرے میں نکل کر پانی ڈھونڈنے لگے ، وہاں ایک انسان سے ملاقات ہوئی جو اپنے بال گھسیٹ رہاتھا ، پھر ( پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی کہا : پھر اس ( دجال ) نے کہا : اگر مجھے نکلنے کی اجازت دی گئی تو میں طیبہ ( مدینہ ) کے سوا تمام شہروں میں جاؤں گا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو لوگوں کے سامنے لے گئے اور ( ان کی موجودگی میں ) آپ نے ان ( لوگوں ) کے سامنے ( یہ واقعہ ) بیان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ طیبہ ہے اور وہ ( شخص ) دجال ہے ۔