وکیع اور معاذ دونوں نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ کہا : ہمیں محمد بن جعفرنے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مغیرہ بن نعمان سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں بے لباس بے ختنہ اکٹھا کیا جا ئے گا ۔ ( قرآن مجید میں ہے ) : " جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لو ٹائیں گے ۔ یہ ہم پر ( پختہ ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں ۔ " یاد رکھو!مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنھیں لباس پہنایا جا ئے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ۔ اور یاد رکھو!میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے ، پھر انھیں پکڑکر بائیں ( جہنم کی ) طرف لے جایا جائے گا ۔ میں کہوں گا ۔ میرے رب! میرے ساتھی ہیں ۔ تو کہا جا ئےگا ۔ آپ کو معلوم نہیں انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیانئی باتیں نکالی تھیں ۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) کہیں گے : " میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تونے مجھے اٹھالیا تو ان پر تو نگہبان تھا ۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر توانھیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے ۔ " فرمایا : " تومجھ سے کہا جا ئے گا جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے ۔ یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے ۔ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے : " تو کہا جائے گا ۔ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں نکالی تھیں ۔
Sahih MuslimHadith 7201
2860.02