2572.01
منصور نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود ( بن یزید نخعی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : کچھ قریشی نوجوان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ منیٰ میں تھیں ۔ وہ نوجوان ہنس رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو؟ انہوں نے کہا : فلاں شخص خیمے کی رسیوں پر گر پڑا ، قریب تھا کہ اس کی گردن یا آنکھ جاتی رہتی ۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ہنسو مت ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " کوئی مسلمان نہیں جسے کانٹا چبھ جائے یا اس سے بڑھ کر ( تکلیف ) ہو مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ۔