مالک نےابن شہاب ( زہری ) سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت یک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ باجماعت نماز تمھارے اکیلے کی نماز سے پچیس گنا ہ افضل ہے
عبدالاعلی نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے ۔ ’’آپ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ( جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ) : ’’ اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سعیداور ابو سلمہ نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےکہا : میں نے نبی ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ آگے معمر سے عبدالاعلیٰ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث کی رضی اللہ عنہ طرح ہے ، اس کے سوا کہ انھوں نے ( درجے کی بجائے ) ’’پچیس جز ‘ ‘ کہا ۔
سلمان اغر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’باجماعت نماز اکیلے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے
عمر بن عطاء بن ابی خوار نے خبر دی کہ میں نے نافع بن جبیر بن مطعم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس اثنا میں ہمارے پاس سے جہنیوں کے آزاد کردہ غلام زید بن زبان کے بہنوئی ابو عبداللہ گزرے ، نافع نے انھیں بلایا ( اور حدیث سنا نے کو کہا ۔ ) انھوں نے کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’امام کے ساتھ ( پڑھی گئی ) نماز ایسی پچیس نمازوں سے افضل ہے جو انسان اکیلے پڑھتا ہے ۔ ‘ ‘
ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ آدمی کی باجماعت ( ادا کی گئی ) نماز اس کی گھر میں یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز کی نسبت بیس سے زیادہ درجے بڑھ کر ہے اور وہ یوں کہ جب ان میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر مسجد آتا ہے ، اسے نماز ہی نے اٹھایا ہے اور نماز کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا ۔ تو وہ کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اس کے سبب سے اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے ، پھر جب مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ( اس کے انتظار کا وقت نماز میں شمار ہوتا ہے ) اور تم میں سے کوئی شخص جب تک اس جگہ رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ‘ ‘ اے اللہ اس پر رحم فرما !اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما! جب تک وہ اس جگہ ( پر کسی کو ) تکلیف نہیں پہنچاتا اور جب تک وہ اس جگہ بے وضو نہیں ہوتا ۔ ’’
عبثر رضی اللہ عنہ ، اسماعیل بن زکریا اور شعبہ ، سب نے اعمش کی اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت بیان کی
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی ( نماز پڑھنے کی ) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں : اے اللہ! اسے بخش دے! اے اللہ اس پر رحم فرما! جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا ، نیز جب تک تم میں سے کسی شخض کو نماز روکے رکھتی ہے ، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔ ’’
ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ بندہ مسلسل نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کی جگہ پر نماز کے انتظار میں رہتا ہے اور فرشتے کہتے رہتے ہیں : اے اللہ! اسے معاف فرما!اے اللہ!اس پررحم فرما! یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے یا بے وضو ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ ( ابو رافع کہتے ہیں : ) میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : يحدث كا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا : آواز کے بغیر یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کر دے ۔
ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ جب تک تم میں سے کسی کو نماز روکے رکھتی ہے وہ مسلسل نماز میں ہوتا ہے ، اسے گھر کی طرف لوٹنے سے نماز کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں روکا ہوتا ۔ ’’
ابن شہاب نے ( عبدالرحمان ) بن ہرمز ( اعرج ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جتنی دیر نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے نماز ہی میں رہتا ہے جب تک بے وضو نہ ہو جائے ۔ فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے : اے اللہ ! اسے معاف فرما! اے اللہ!اس پؓر رحم فرما ۔ ’’
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مطابق روایت کی ۔