جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انھوں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " جریر!کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے راحت نہیں دلا ؤ گے؟ " یہ خثعم کا بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانیہ بھی کہا جا تا تھا ۔ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں ڈیڑھ سو گھڑسوار لے کر اس کی طرف روانہ ہوا اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے میرے سینے پر اپنا مبارک ہاتھ مارا اور دعا فر ما یا : " اے اللہ !اس کو ( گھوڑے پر ) جماد ے اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنادے ۔ " ( قیس بن ابی حازم نے ) کہا؛ پھر وہ روانہ ہو ئے اور اس بت خانے کو آگ لگا کر جلا دیا ، پھر حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا ۔ اس کی کنیت ابوار طاۃ تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی ، میں آپ کے پاس اسی وقت حاضر ہوا ہوں جب ہم نے اس ( بت خانے ) کو خارش زدہ اونٹ کی طرح ( دیکھنے میں مکروہ ٹوٹا پھوٹا ) کر چھوڑا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیا دوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فر ما ئی ۔
Sahih MuslimHadith 6366
2476.02