محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے ابو زبیر سے حدیث سنائی ، کہا : ( عبداللہ ) زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے : ’’ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے ( ملتی ) ہے ، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں ۔ ہم اس کےسوا کسی کی بندگی نہیں کرتے ، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے ، خوبصورت تعریف کا سزا وار بھی وہی ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں ، چاہے کافر اس کو ( کتنا ہی ) نا پسند کریں ۔ ‘ ‘ اور کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے لا الہ الا اللہ والے یہ کلمات کہا کرتے تھے ۔
عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابو زبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے ( آگے ) ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انھوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا : پھر ابن زبیر کہتےکہ رسول اللہ ﷺہر نماز کے بعد ان ( کلمات ) کو بلند آواز سے کہتے تھے ۔
(ہشام کے بجائے ) حجاج بن ابی عثمان نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے ابو زبیر نے حدیث بیان کی کہا : میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ اس منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابو زبیر مکی نے انھیں حدیث سنائی کہ انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا ، جب وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے تو کہتے ۔ ۔ ۔ ( بقیہ روایت ) ان دونوں ( ہشام اور حجاج ) کی ( مذکورہ بالا ) روایت کے مانند ہے ، اور آخر میں کہا : وہ اسے رسو ل اللہ ﷺ سے بیان کیا کرتے تھے