ابو وائل ( شقیق بن سلمہ ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انھوں نے کہا : قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کےلیے ہاں تک کہنا گوارانہ کیا ، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مدینہ کی بوڑھی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں ، ان کا خیا ل تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ۔ آپ نے ( کچھ دن گزر نے کے بعد ) فرمایا : ’’ان دونوں نے سچ کہا تھا ۔ ( قبروں میں ) ان ( کافروں ، گنا گاروں ) کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسے مویشی بھی سنتے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔
Sahih MuslimHadith 586 (2 narrations)
586.01
586.02
(ابو وائل کے بجائے ) اشعث کے والد ( ابو شعثاء سلیم محاربی ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی ۔ اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : آپ نے اس کے بعد جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سناکہ آپ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔