ابن علیہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں قاسم بن مہران سے ، انھوں نے ابو رافع سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلے ( کی سمت ) میں بلغم دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’ تم میں سے کسی ایک کو کیا ( ہو جاتا ) ہے ، وہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے ، پھر اپنے سامنے بلغم پھینک دیتا ہے ؟ کیا تم میں سے کسی کو یہ پسند ہے کہ اس کی طرف رخ کیا جائے ، اس کے منہ کے سامنے تھوک دیا جائے ؟ چنانچہ جب تم میں سے کوئی شخص کھنگار پھینکنا چاہے تو وہ اپنی جائیں جانب قدم کے نیچے پھینکے ، اگر اس کی گنجائش نہ پائے تو ایسے کر لے ۔ ‘ ‘ قاسم نے اس ک وضاحت میں اپنے کپڑے میں تھوکا ، پھر اس کے ایک حصے کو دوسرے پر رگڑ دیا
Sahih MuslimHadith 550 (2 narrations)
550.01
550.02
(ابن علیہ کے بجائے ) عبدالوارث ، ہشیم اورشعبہ نے قاسم بن مہران سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابو رافع سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی ﷺ سے ابن علیہ کی حدیث کی طرح ( روایت بیان کی ۔ ) ہشیم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جیسے میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کپڑے کا ایک حصہ دوسرے پر لوٹا ( رگڑ ) رہے ہیں ۔ ( اس طرح مسجد میں گندگی نہیں پھیلتی اور کپڑے کو باہر لے جا کر دھویا جاسکتا ہے ۔)