۔ سفیان نے بیان کیا : ہمیں عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد ( حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں مکہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا ، آپ ابطح کے مقام پر چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں ( قیام پذیر ) تھے ۔ ( ابو جحیفہ نے ) کہا : بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا پانی لے کر باہر آئے ( بعد ازاں جب آپ نے وضو کر لیا تو ) اس میں سے کسی کو پانی مل گیا اور کسی نے ( دوسرے سے اس کی ) نمی لے لی ۔ انہوں نے کہا : پھر نبی اکرمﷺ سرخ حلہ ( لباس کے اوپر لمبا چوغہ ) پہنے ہوئے نکلے ، ( ایسا لگتا ہے ) جیسے ( آج بھی ) میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ۔ آپ نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی ، انہوں نے کہا : میں بھی ان کے منہ پیچھے اس طرح اور اس طرف رخ کرنے لگا ، ( جب ) وہ حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہہ رہے تھے تو انہوں نے دائیں بائیں رخ کیا ، کہا : پھر آپ کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر ظہری کی دو رکعتیں ( قصر ) پڑھائیں ، آپ کے آگے سے گدھا اور کتا گزر تا تھا ، انہیں روکا نہ جاتا تھا ، پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر مدینہ واپسی تک مسلسل دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے ۔
۔ عمر بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہﷺ کو چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا ( کہا : ) اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ آپ کے وضو کا پانی باہر لے آئے تو میں نے دیکھا لوگ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس کو اس سے کچھ پانی مل گیا اس نے اس کو بدن پر مل لیا اور جس کو اس سے نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھ کے ہاتھ کی نمی سے نمی حاصل کر لی ، پھر میں نے بلال کو دیکھا انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور کو گاڑ دیا ، رسول اللہﷺ سرخ حلہ پہنے ہوئے نکلے جو آپ نے پنڈلیوں تک اونچا کیا ہوا تھا ، آپ نے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو نیزے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا ۔
ابو عمیس نے اور مالک بن مغول دونوں نے اپنی اپنی سند سے عون بن ابی جحفہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سفیان اور عمرو بن ابی زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے ۔ ان ( چاروں سفیان ، عمر ، ابو عمیس اور مالک ) میں بعض دوسروں سے زائد الفاظ بیان کرتے ہیں ۔ مالک بن مغول کی حدیث میں ہے : جب دوپہر کا وقت ہوا تو بلال نکلے اور نماز کے لیے اذان دی ۔
۔ محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : سخت گرمی کے وقت رسول اللہﷺ بطحا کی طرف نکلے ، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا ۔ شعبہ نے کہا : عون نے اپنے والد ابو جحیفہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے ۔
۔ ( عبد الرحمان ) بن مہدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں ( حکم اور عون کی ) دونوں سندوں کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے ( ابن مہدی ) نے حکم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : تو لوگ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی میں سے ( پانی ) لینے لگے ۔