اسماعیل بن جعفر نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ ( آزاد کردہ غلام ) یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی کی ) گری پڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : " ایک سال اس کا اعلان کرو ، پھر اس کے بندھن اور تھیلی وغیرہ کی شناخت رکھو ، پھر اس سے خرچ کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو ۔ " اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! گمشدہ بکری؟ آپ نے فرمایا : " اسے پکڑ لو ، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے ۔ " اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ؟ کہا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے ۔ ۔ یا آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ پھر فرمایا : " تمہار اس سے کیا تعلق؟ اس وقت تک کہ اس کا مالک اسے پا لے ، اس کا موزہ اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے
Sahih MuslimHadith 4499
1722.02