Sahih Muslim
1671.02

ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابوبکر کے ہیں ، کہا : ہمیں ابن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو رجاء مولیٰ ابی قلابہ نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عُکل ( اور عرینہ ) کے آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی ، انہوں نے اس سرزمین کی آب و ہوا کو ناموافق پایا اور ان کے جسم کمزور ہو گئے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : "" تم ہمارے چرواہے کے ساتھ ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر اسی مشترکہ چراگاہ کی طرف جا رہا تھا جہاں بیت المال کے اونٹ بھی چرتے تھے : فتح الباری : 1/338 ) اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے تاکہ ان کا پیشاب اور دودھ پیو؟ "" انہوں نے کہا : کیوں نہیں! چنانچہ وہ نکلے ، ان کا پیشاب اور دودھ پیا اور صحت یاب ہو گئے ، پھر انہوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ) چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ بھی بھگا لے گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے ( ایک دستہ ) روانہ کیا ، انہیں پکڑ لیا گیا اور ( مدینہ میں ) لایا گیا تو آپ نے ان کے بارے میں ( قرآن کی سزا پر عمل کرتے ہوئے ) حکم دیا ، اس پر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے ، ان کی آنکھیں گرم سلاخوں سے پھوڑ دی گئیں ، پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا حتی کہ وہ مر گئے ۔ ابن صباح نے اپنی روایت میں ( کے بجائے ) اور ( کے بجائے ) کے الفاظ کہے ( معنی وہی ہے ۔)