Sahih Muslim
1656.03

جریر بن حازم نے ہمیں حدیث سنائی کہ ایوب نے انہیں حدیث بیان کی ، انہیں نافع نے حدیث سنائی ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، آپ اس وقت طائف سے لوٹنے کے بعد جعرنہ میں ( ٹھہرے ہوئے ) تھے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ، آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو ۔ "" کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خُمس سے ایک لونڈی عطا فرمائی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی آوازیں سنیں ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے ۔ تو انہوں نے پوچھا : کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے بیٹے سے ) کہا : عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے آزاد کر دو ۔ ( یہ حنین کا موقع تھا)