1504.03
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی : عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت ( قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ ) کیا ہے ، ہر سال میں ایک اوقیہ ( 40 درہم ادا کرنا ) ہے ، آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی ہے اور ( اس میں ) یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں ان کی یہ بات ( بریرہ کو آزاد کرنے سے ) نہ روکے ۔ اسے خریدو اور آزاد کر دو ۔ " اور ( یونس نے ) حدیث میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " امابعد! " ( خطبہ دیا جس میں شرط والی بات ارشاد فرمائی)