Sahih Muslim
363.01

یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔)

363.02

یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔)

363.03

۔ ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔ 809 ۔ سفیان نے عمرو

363.04

سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو میمونہؓ کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا ، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘