Sahih Muslim
336.01

ابونضر سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی ؓ سے سنا ، وہ کہتی تھی کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی ، میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا ، آپ کی بیٹی فاطمہ ؓ نے ایک کپڑے کے ذریعے سے آپ ( کے آگے ) پردہ بنایا ہوا تھا ۔

336.02

یزید بن ابی حبیب نے سعید بن ابی ہند سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ام ہانی بنت ابی طالبؓ نے انہیں بتایا کہ جس سال مکہ فتح ہوا وہ ےپ کے پاس حاضر ہوئیں ، آپ مکہ کے بالائی حصے میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نہانے کےلیے اٹھے تو فاطمہ ؓ نےآپ کے آگے پردہ تان دیا ، پھر ( غسل کے بعد ) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا ، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی نفل پڑھیں ۔

336.03

سعید بن ابی ہند کے ایک اور شاگرد ولید بن کثیر نے اسی سند سےحدیث بیان کی اور یہ الفاظ کہے : تو آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ نے آپ کے کپڑے کے ذریعے سے آپ کے لیے اوٹ بنا دی ۔ آپ جب غسل کے چکے تو وہی کپڑا لیا ، اسے اپنے گرد لپیٹا ، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعات نماز ادا کی ، یہ چاشت کا وقت تھا ۔

336.04

محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۔ انھوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نمازپڑھتے نہیں دیکھا ، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کررہے تھے ۔ ابن بشار نے اپنی روایات میں قط ( کبھی ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔

336.05

حرملہ بن یحیٰٰ اور محمد بن سلمہ مرادی دونوں نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عبداللہ بن حارث کے بیٹے نے حدیث سنائی کہ ان کے والد عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کہا : میں نے ( سب سے ) پوچھا اور میری یہ شدید خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایک شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے ۔ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کوئی نہ ملا جو مجھے یہ بتاتا ۔ انھوں نے مجھے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن بلند ہونے کے بعد تشریف لائے ، ایک کپڑا لا کر آپ کو پردہ مہیا کیاگیا ، آپ نے غسل فرمایا ، پھر آپ کھڑ اہوئے اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔ میں نہیں جانتی کہ ان میں آپ کا قیام ( نسبتاً ) زیادہ لمبا تھا یا آپ کا رکوع یا آپ کا سجود یہ سب ( ارکان ) قریب قریب تھے اور انھوں نے ( ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے بتایا ، میں نے ا س سے پہلے اور اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو ۔ ( محمد بن مسلمہ ) مرادی نے اپنی روایت میں "" یونس سے روایت ہے "" کہا ۔ "" مجھے یونس نے خبر دی "" نہیں کہا ۔

336.06

ابو نضر سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو کپڑے سےچھپائے ہوئے تھیں ( آگے پردہ کیا ہوا تھا ) میں نے سلام عرض کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے کہا : ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ۔ آپ نے فرمایا : " ام ہانی کو خوش آمدید! " جب آپ نہانے سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور صرف ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ چاہتا ہے کہ ایک ایسے آدمی کو قتل کردے جسے میں نے پناہ دے چکی ہوں ۔ یعنی ہبیرہ کا بیٹا ، فلاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امی ہانی! جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی ۔

336.07

جعفر بن محمد ؒ کے والد محمد باقرؒ نے عقیل کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ سے اور انھوں نے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک کپڑے میں جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف جانب ڈالے گئے تھے ، آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔