لیث نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اپنے بچے کو ، جس نے ابھی کھانا شروع نہ کیا تھا ، لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا تو اس نے پیشاب کر دیا ، آپ نے اس پر پانی چھڑکنے سے زیادہ کچھ نہ کیا ۔
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت کی اور کہا : آپ نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا
یونس بن یزید نے کہا : مجھے ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ام قیس بنت محصن ؓ سے ( وہ جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والی ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ جو بنواسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں ، کی بہن تھیں ) روایت کی ، کہا : انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں اپنا بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جو ابھی اس عمر کو نہ پہنچا تھا کہ کھانا کھا سکے ۔ ( ابن شہاب کے استاد ) عبیداللہ نے کہا : انہوں ( ام قیسؓ ) نے مجھے بتایا کہ میرے اس بیٹے نے رسو ل ا للہﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسو ل اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر بہا دیا اور اسے اچھی طرح دھویا نہیں ۔
یونس بن یزید نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں بتا یا کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ پہلے پہل ہجرت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی تھی ۔ یہ بنوا سد بن خزیمہ کے فرد حضرت عکا شہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔ کہا : انھوں نے مجھے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا ، انھوں نے گلے کی سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے دبایا تھا ۔ یونس نے کہا حلق دبایا تھا ۔ یعنی انگلی چبھو ئی تھی ( تا کہ فاصد خون نکل جا ئے ) انھیں یہ خوف تھا کہ اس گلے کے میں سوزش ہے ۔ انھوں ( ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس انگلی چبھونے والے طریقے سے تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ اس عودہندی یعنی کُست کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات اقسام کی کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا ۔