Sahih Muslim
2786.01

افضیل بن عیاض نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا ، اور زمینوں کو ایک انگلی پر ، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اورپانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، بادشاہ میں ہوں ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئےہنسے ، پھر آپ نے ( یہ آیت ) پڑھی : " انھوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ۔ وہ ( ہراس چیز کی شراکت سے ) پاک اور بلند ہے جنھیں وہ ( اس کے ساتھ ) شریک کر تے ہیں ۔

2786.02

جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، فضیل کی حدیث کے مانند ، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا : "" وہ ( اللہ ) ان ( انگلیوں ) کو ہلائے گا ۔ "" اور ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا ، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ( اس طرح ) ہنسے کہ آپ سے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انھوں نے ( اس طرح ) اللہ کی قدر نہیں کی ( جس طرح ) اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ "" ( اور ( پوری ) آیت تلاوت فرمائی ۔

2786.03

حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا : میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر ، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں بادشاہ میں ہوں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ( اس بات پر ) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوئے ، پھرآپ نے ( اس آیت کی ) تلاوت کی : " انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ( اس طرح قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے ۔)

2786.04

ابو معاویہ ، عیسی بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگران سب کی روایتوں میں ہے : " اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لےگااور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے " اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا " لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے : " اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا " اور انھوں نے جریر کی حدیث میں مذید یہ کہا : " اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ( آپ ہنسے ۔)