Sahih Muslim
2779.01

اسود بن عامر نے کہا : ہمیں شعبہ بن حجاج نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس ( بن عباد ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے اپنے اس کام پر غور کیا جو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کیا ہے ( ان کا بھرپور ساتھ دیا ہےاور ان کے مخالفین سے جنگ تک کی ہے ) یہ آپ کے اپنے غوروفکر سے اختیار کی ہوئی آپ کی رائے تھی یا ایسی چیز تھی جس کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے سپرد کی تھی؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی ذمہ داری ہمارے سپرد نہیں کی جو انہوں نے تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے ساتھیوں میں سے بارہ افراد منافق ہیں ، ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے ( کبھی داخل نہیں ہوں گے ) ، ان میں آٹھ ایسے ہیں ( کہ ان کے شر سے نجات کے لیے ان کے کندھوں کے درمیان ظاہر ہونے والا سرخ ) پھوڑا تمہاری نجات کے لیے تمہیں کفایت کرے گا ۔ اور چار ۔ " ( آگے کا حصہ ) مجھے ( اسود بن عامر کو ) یاد نہیں کہ شعبہ نے ان ( چار ) کے بارے میں کیا کہا تھا ۔

2779.02

محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا؛ ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں ) اپنی جنگ کو کیسے دیکھتے ہیں ، کیا یہ ایک رائے ہے جو آپ نے غوروفکر سے اختیار کی ہے؟ تو رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی ، یا کوئی ذمہ داری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی ایسی ( خصوصی ) ذمہ داری نہیں دی تھی جو تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" بےشک میری امت میں ۔ ۔ ۔ "" شعبہ نے کہا : اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا : مجھے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ ) حدیث سنائی ۔ اور غندر نے کہا : مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کہا : "" میری امت میں بارہ منافق ہیں ، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے ، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے ۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں ( کہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے ) تمہاری کفایت ایک ایسا پھوڑا کرے گا جو آگ کے جلتے ہوئے دیے کی طرح ( اوپر سے سرک ) ہو گا ، ان کے کندھوں میں طاہر ہو گا یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نکل آئے گا ۔

2779.03

ولید بن جمیع نے کہا : ہمیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ( اس طرح کا ) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے ۔ ( گفتگو کے دوران میں ) انہوں نے ( اس شخص سے ) کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ ( حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے ) کہا : لوگوں نے اس سے کہا : جب وہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو انہیں بتاؤ ۔ ( پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی جواب دیتے ہوئے ) کہا : ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ لوگ تھے اور اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو وہ کل پندرہ لوگ تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ دنیا کی زندگی میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں تھے اور ( آخرت میں بھی ) جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین لوگوں کا عذر قبول فرما لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا اور اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرہ میں تھے ، آپ چل پڑے اور فرمایا : " پانی کم ہے ، اس لیے مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے ۔ " چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہاں پہنچ کر ) دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں تو آپ نے اس روز ان پر لعنت کی ۔