Sahih Muslim
274.01

مغیرہ ‌بن ‌شعبہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌اپنے ‌كام ‌كو ‌نكلے ‌ان ‌كی ‌پیچھے ‌مغیرہ ‌پانی ‌كا ‌ڈول ‌لے ‌كر ‌گۓ ‌اور ‌آپ ‌جب ‌حاجت ‌سے ‌فارغ ‌ہوۓ ‌تو ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ( ‌یعنی ‌وضو ‌كے ‌وقت ‌ ) پھر ‌وضو ‌كیا ‌اور ‌مسح ‌كیا ‌موزوں ‌پر ‌. ‌ابن ‌رمح ‌كی ‌روایت ‌میں ‌یوں ‌ہے ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ‌یہاں ‌تك ‌كہ ‌آپ ‌فارغ ‌ہوےء ‌حاجت ‌سے ( ‌یعنی ‌وضو ‌سے ‌)

274.02

یحییٰ بن سعید کےایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا : آپﷺنے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، اپنے سر کامسح کیا ، پھر موزوں پر مسح کیا ۔

274.03

اسود بن ھلال نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ‘ انھو ں نے کہا ایک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب آپﷺ ( سواری سے ) اترے اورقضائے حاجت کی آپﷺ واپس آئے تو میں نے اس برتن سے جو میر ے پاس تھا ’’پانی ڈالا ‘ ‘ آپﷺ نے وضو کیا اور آپنے موزوں پر مسح کیا ۔

274.04

ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( بن صبیح ہمدانی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہوں نےکہا : میں ایک سفر میں نبی اکرمﷺکے ساتھ تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے مغیرہ !پانی کا برتن لے لو ۔ ‘ ‘ میں نے برتن لے لیا ، پھر آپ کےساتھ نکلا ۔ رسول اللہ ﷺ چل پڑے یہاں تک کہ مجھ سے اوجھل ہو گئے ، قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس آئے ، آپ نے تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا ، آپ اس کی آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرنے لگے ( مگر ) وہ ( جبہ ) تنگ ( ثابت ) ہوا ۔ آپ نے اپنا ہاتھ نیچے سے نکالا ، پھر میں نے پانی ڈالا تو آپ نے نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھی ۔

274.05

اعمش سے ( ابو معاویہ کےبجائے ) عیسیٰ بن یونس ) نےباقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے ، جب واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا ، میں نے پانی ڈالا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر چہرہ دھویا ، پھر ہاتھ دھونے لگے تو جبہ تنگ نکلا ، آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے ، ان کو دھویا ، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پرمسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ۔

274.06

زکریا نےعامر ( شعبی ) سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد حضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ایک رات میں سفر کےدوران میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ نے پوچھا : ’’کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ ‘ ‘ میں نےکہا : جی ہاں ۔ تو آپ اپنی سواری سے اترے ، پھر پیدل چل دیےیہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہو گئے ، پھر ( واپس ) آئے تو میں نے برتن سے آپ ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالا ، آپ نے اپنا چہرہ دھویا ( اس وقت ) آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے ، آپ اس میں سے اپنے ہاتھ نہ نکال سکے حتی کہ دونوں ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا ، پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے چاہے تو آپ نے فرمایا : ’’ان کو چھوڑو ، میں نے باوضو ہو کر دونوں پاؤں ان میں ڈالے تھے ‘ ‘ اور ان پر مسح فرمایا ۔

274.07

عامر شعبی کے ایک دوسرے شاگرد عمر بن ابی زائدہ نےعروہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کی کہ انہوں ( مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرایا ، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ مغیرہ نے آپﷺ سے ( اس بارے میں ) بات کی تو آپ نے فرمایا : ’’میں نے انہیں باوضو حالت میں ( موزوں میں ) داخل کیا تھا ۔ ‘ ‘

274.08

حمید الطویل نے کہا : ہمیں بکر بن عبد اللہ مزنی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسول اللہ ﷺ ( قافلے سے ) پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا ، جب آپ نے قضائے حاجت کر لی تو فرمایا : ’’کیاتمہارے ساتھ پانی ہے ؟ ‘ ‘ میں آپ کے پاس وضو کرنے کا برتن لایا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا ، پھر دونوں بازو کھولنے لگے تو جبے کی آستین تنگ پڑ گئی ، آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور جبہ کندھوں پر ڈال لیا ، اپنے دونوں بازودھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے ، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا ، پھر آپ سوار ہوئے اور میں ( بھی ) سوار ہوا ، ہم لوگوں کے پاس پہنچے تووہ نماز کے لیے کھڑے تھے ، عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ان کو نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۔ جب انہیں نبی اکرمﷺ ( کی تشریف آوری ) کا احساس ہوا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا ( کہ نماز پوری کرو ) تو انہوں نے نماز پڑھا دی ، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہو گئے ، میں بھی کھڑا ہو گیا اور ہم نے وہ رکعت پڑھی جوہم سے پہلے ہو چکی تھی ۔

274.09

امیہ بن بسطام اور محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے بکر بن عبد اللہ نے حضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے کے واسطے سے حضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺنے موزوں ، اپنے سر کے سامنے کے حصے اور اپنے عمامے پر مسح فرمایا ۔

274.10

محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انہوں نے بکر سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نےحضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبیﷺ سےیہی روایت بیان کی ۔ ( بکر نے عروہ بن مغیرہ سے حسن کے حوالے سے بھی یہ روایت حاصل کی اور براہ راست بھی سنی ۔)

274.11

یحییٰ بن سعید نے ( سلیمان ) تیمی سے ، انہوں نے بکر بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ( بکر نےکہا : میں نے مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے ( بلاواسطہ بھی ) سنا ) کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور اپنے سر کے اگلے حصے پر اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا ۔

274.12

۔ عباد بن زیاد کو عروہ بن مغیرہ بن شعبہ خبر دی کہ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ غز وہ تبوک میں شریک ہوئے ۔ مغیرہ نے کہا : صبح کی نماز سے پہلے رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں نے آپ کے ہمراہ پانی کا ایک برتن اٹھا لیا ۔ جب رسو ل اللہﷺ میر ی طرف لوٹے تو میں برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے جبہ نکالنے لگے ، جبے کی دونوں آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ آپ نے اپنے بازور جبے کے نیچے سے نکال لیے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح ( کر کے ) وضو ( مکمل ) کیا ، پھر آپ آگے بڑھے ۔ مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہ ہم لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو آگے کر چکے تھے ، انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک ملی ۔ آپ نے آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی ، چنانچہ جب حضرت عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے سلام پھیرا تو رسول اللہﷺ اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے ، اس بات نے مسلمانوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کثرت سے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا ، جب نبیﷺ نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’ تم نے اچھا کیا ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تم نے ٹھیک کیا ۔ ‘ ‘ آپ نے ان کی تحسین فرمائی کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھ لی تھی ۔

274.13

اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ سے روایت کی جو عباد کی روایت کی طرح ہے ۔ ( اس میں یہ بھی ہے کہ ) مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن عوف کو پیچھے کرنا چاہا تو نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( آگے ) رہنے دو ۔ ‘ ‘