قتیبہ بن سعید اور ہناد بن سری نے کہا : ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم بن یزید سے ، انھوں نے عبیدہ سلیمانی سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میر ی امت میں سے بہترین اس دور کے لوگ ہیں جو میرے ساتھ ہیں ( صحابہ ) ، پھر وہ ہیں جو ان کےساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ( تابعین ) ، پھر وہ جوان کے ساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ( تبع تابعین ) ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہوگی ۔ اور ان کی قسم ان کی گواہی سے پہلے ہوگی ۔ " ہناد نے اپنی حدیث میں قرن ( دور ) کا ذکر نہیں کیا ۔ اور قتیبہ نے کہا : " پھر ایسی اقوام آئیں گی ۔
جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟آپ نے فرمایا : "" میرے دور کے لوگ پھر وہ جو ان کے ساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہوں گے ، پھر ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان کی شہادت ان کی قسم سے جلدی ہوگی اور ان کی قسم انکی شہادت سے جلدی ہوگی ۔ "" ابراہیم ( نخعی ) نے کہا : جس وقت ہم کم عمر تھے ( تو بڑی عمرکے ) لوگ ہمیں قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے ۔
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے ابو احوص اور جریر کی سند کے ساتھ انھی دونوں کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ، دونوں کی حدیث میں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا " ( کے الفاظ ) نہیں ۔
ابن عون نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبیدہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا؛ " لوگوں میں سے بہترین میرے دور کے لوگ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) ہیں ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ( کے دورکے ) ہوں گے ( تابعین رحمۃ اللہ علیہ ) ، پھر وہ جوان کے ساتھ ( کے دور کے ) ہوں گے ( تبع تابعین ۔ ) " ( عبیدہ سلیمانی نے کہا : ) مجھے یاد نہیں ( کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) تیسری بار کہا یاچوتھی بار : " پھر ان کے جانشین ایسے لوگ ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی گواہی قسم سے پہلے ہوگی اوراور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی ۔