Sahih Muslim
2444.01

مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبتایا کہ انھوں نے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے فرمارہے تھے اور آپ ان کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور انھوں نے کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی ، آپ فرمارہے تھے : " اللہ!مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق ( اعلیٰ ) کے ساتھ ملادے ۔

2444.02

ابواسامہ ، عبداللہ بن نمیر اورعبدہ بن سلیمان ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

2444.03

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فر ما یا : میں سناکرتی تھی ۔ کہ کو ئی نبی فوت نہیں ہو تا یہاں تک کہ اس کو دنیا آخرت کے درمیان اختیار دیا جا تا ہے کہا : تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فر ما تے ہو ئے سنا ۔ اس وقت آپ کی آواز بھا ری ہو گئی تھی آپ فر ما رہے تھے : " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعا لیٰ نے انعام فر ما یا : " یعنی انبیاء ، صدیقین شہداء اور صالحین ( کے ساتھ ) اور یہی بہترین رفیق ہیں ۔ " کہا : تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیا ردے دیا گیا ہے ۔

2444.04

وکیع اور معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نےسعد ( بنابرا ہیم ) سے اسی سند کے ساتھ اسکے مانند روایت کی ۔

2444.05

ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی مو جو دگی میں خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرما یا کرتے تھے ۔ "" کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جا تی ۔ یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جا تا ہے ، پھر اس کو اختیا ر دیا جا تا ہے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کاسر میرے زانو پر تھا ۔ آپ کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگا ہیں اٹھا ئیں ، پھر فر ما یا : "" اے اللہ !رفیق اعلیٰ! "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے ( دل میں ) ) کہا : اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فر ما یا کرتے تھے ۔ وہ آپ کےاپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی : کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکا نا دکھایا جا تا ہے اور اسے ( موت کو قبول کرنے یا مؤخرکرانے کا ) اختیار دیا جا تا ہے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر ما ن : "" اے اللہ !رفیق اعلیٰ ! "" وہ آخری بات تھی جو آپ نے کہی ۔