یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے سعد بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمان ( بن عوف ) نے حدیث سنائی کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک شخص اپنی گا ئے کو ہانک رہاتھا اس پر بو جھ لادا ہوا تھا ۔ اس گائے نے منہ پیچھے کیا اور کہا : مجھے اس کا م کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ " لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا : سبحان اللہ ! کیا گائے بولتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( کسی اور کو یقین ہو نہ ہو ) میرا ابو بکر کا اور عمر کا اس پر ایمان ہے ۔ " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ایک چرواہااپنی بکریوں میں ( مو جود ) تھا کہ بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑلی ، چرواہا اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ اس بکری کو بھیڑیے سے بچا لیا ۔ اس ( بھیڑیے ) نے کہا : اس دن اسے کون بچا ئے گا جب درندوں ( کے حملے ) کا دن آئے گا اور میرے سوا اس کا چرواہا ( مالک ) کو ئی نہ ہو گا ؟ " لوگوں نے کہا : سبحان اللہ !تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور ابو بکر اور عمر ( بھی یقین رکھتے ہیں ۔)
Sahih MuslimHadith 2388 (4 narrations)
2388.01
2388.02
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بکری اور بھیڑیے کا واقعہ بیان کیا اور گا ئے کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔
2388.03
سفیان بن عیینہ اور سفیان ( ثوری ) دونوں نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےزہری سے یونس کی روایت کے ہم معنی روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں گا ئے اور بکری دونوں کا ذکر ہے اور دونوں نے اپنی حدیث کے الفا ظ کہے ۔ " میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابو بکراور عمر ( بھی یقین رکھتے ہیں ۔ ) " اور وہ دونوں وہاں نہیں تھے ۔
2388.04
شعبہ اور مسعر دونوں نے سعد بن ابرا ہیم سے انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔