خالد بن عبد اللہ نےعمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے ، انہوں نے اپنےوالد ( یحییٰ بن عمارہ ) سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہیں شرف صحبت حاصل تھا ) ، ( یحییٰ بن عمارہ نے ) کہا : حضرت عبد اللہ بن زید سے کہا گیا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کا ( سا ) وضو کر کے دکھائیں ۔ اس پر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا ، اسے جھکا کر اس میں سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا اور انہیں تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی کھینچا ، یہ تین بار کیا ، پھر اپنا ہاتھ ، پھر اپناہاتھ ڈال کر پانی نکالا اوراپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے بازو کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ، ( تاکہ امت کو معلوم ہو جائے کہ کسی عضو کو دوبار دھونا بھی جائز ہے ) پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے سر کا مسح کیا اور ( آپ ) اپنے دونوں ہاتھ ( سرپر ) آگے سے پیچھے کواور پیچھے سے آگے کو لائے ، ( ایک طرف مسح کرنا اور اسی ہاتھ کودوبارہ واپس لانامستحب ہے ( پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھرکہا : رسو اللہ ﷺ کا وضو اسی طرح تھا ۔)
(خالدبن عبداللہ کے بجائے ) سلیمان بن بلا ل نےعمرو بن یحییٰ سے باقی ماندہ پچھلی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اس میں ’’ٹخنوں تک ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا : انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی ۔ انہوں نے ’’ایک ہی چلو سے ‘ ‘ کےالفاظ ذکر نہیں کیے اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے ( پیچھے کو ) لائے اور پیچھےسے ( آگے کو ) لائے ‘ ‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے : انہوں نے سر کے اگلے حصے سے ( مسح ) شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے ، پھر ان کوواپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔
بہز نے وہیب سے اور اس نے عمرو بن یحییٰ سے سابقہ راویوں کی اسناد کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : اور انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی ، تین چلو پانی سے ۔ اور یہ بھی کہا : پھر سر کا مسح کیا اور آگے سے ( پیچھے کو ) اور پیچھے سے ( آگے کو ) مسح کیا ایک بار ۔ بہز نے کہا : وہیب نے یہ حدیث مجھے املا کرائی اوروہیب نے کہا : عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث مجھے دوبار ( دومختلف موقعوں پر ) املا کرائی ۔