Sahih Muslim
231.01

مسعر نےابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں نےحمران بن ابان سے سنا ، انہوں نےکہا : میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا ( پانی ) اپنے اوپر نہ بہا لیتے ( ہلکا سا غسل نہ کر لیتے ، ایک دن ) عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے ( مسعر کا قول ہے : میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے ) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا : ’’میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول!اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے ، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے ۔ ‘ ‘

231.02

عبید اللہ بن معاذ نے اپنےوالد سے اور محمد بن مثنیٰ اورابن بشار نے محمد بن جعفر ( غندر ) سےروایت کی ، ان دونوں ( معاذ بن اور ابن جعفر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے جامع ابن شداد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا ، وہ بشر کے دور امارات میں اس مسجد میں ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو بتا رہے تھے کہ عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اس طرح وضو کومکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو ( اس کی ) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہو ئے ۔ ‘ ‘ یہ ابن معاذ کی روایت ہے ، غندر کی حدیث میں بشر کے دور حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے ۔ [مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘