لیث نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا ، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص برا خواب دیکھے تو وہ نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کی کسی دوسرے کوخبر نہ دے ۔
زکریا بن اسحاق نے کہا : مجھے ابو زبیر نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے نیند میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان کے بس میں نہیں کہ وہ میری مشابہت اختیار کرسکے ۔
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اعرابی ( بدوی ) نے ، جو آپ کے پاس آیا تھا ، آپ سے عرض کی : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سرکٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اورفرمایا : " نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کے بارے میں کسی کو مت بتاؤ ۔
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر کو تلوار کا نشان بنایا گیا ، وہ لڑکھتا ہواجارہا ہے اور میں اس کے پیچھے د وڑ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا : "" نیند کی حالت میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے وہ لوگوں کو نہ بتاؤ ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" خواب میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے تم میں سے کوئی اس کے بارے میں لوگوں کے ساتھ باتیں نہ کرے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نےحضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں د یکھا کہ میر اسر کاٹ دیا گیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا؛ " جب خواب میں شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کرے تو وہ لوگوں کو نہ بتاتا پھرے ۔ " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جب تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کی جائے ۔ " اور انھوں نے شیطان کا ذکر نہیں کیا ۔