ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہو ئے سنا : " اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے ۔ ۔ ابن آدم دہر ( وقت ، زمانے ) کو برا کہتا ہے جبکہ ( رب ) دہر میں ہی ہوں ۔ رات اور دن ( جنھیں انسان وقت کہتا ہے ) میرے ہاتھ میں ہیں ۔
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے ۔ ابن آدم مجھے ایذادیتا ہے ( نارا ض کرتا ہے ) وہ زمانے کو برا کہتا ہے جبکہ میں ہی ( رب ) دہرہوں ، را ت اور دن کو پلٹتا ہوں ۔
معمرنے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، : کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے ارشاد فر ما یا : ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ کہتا ہے ۔ " ہائے زمانے ( وقت ) کی نامرادی ! " تم میں سے کو ئی " ہائے زمانے کی نامرادی! " ( جیسا جملہ ) نہ کہے ، کیونکہ دہر ( کا مالک ) میں ہوں ۔ رات اور دن کو پلٹتا ہوں اور میں جب چا ہوں گا ان کی بساط لپیٹ دو گا ۔
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے کہ " ہائے زمانے کی نامرادی! " کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے ( کا مالک ) ہے ۔
ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمانے کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانہ ( کا مالک ) ہے ۔