حماد نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا اور لوگوں سے فرمایا؛ " میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ہے اوراس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا ہے ، سوکوئی شخص اس نقش کے مطابق نقش کندہ نہ کرائے ۔
اسماعیل ( ابن علیہ ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں " محمد رسول اللہ " ( نقش کرانے ) کا ذکر نہیں کیا ۔
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم ( کے بادشاہ ) کی طرف خط لکھنے کاارادہ کیا تو صحابہ نےعرض کی : وہ لوگ کوئی ایسا خط نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگائی گئی ہو ، کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، ایسالگتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں اس کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ، اس پر " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " نقش ہے ۔
معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عجم کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ کہا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس ( انگوٹھی ) کی سفیدی کو دیکھ رہاہوں ۔
خالد بن قیس نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ڈھلوائی ، وہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا ۔