سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انھیں ابو فروہ سے ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ انھوں نے عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ہم ( ایران کے سابقہ دارالحکومت ) مدائن میں حضرت خذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی ما نگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( مشروب ) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا : میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہو ں کہ وہ مجھے اس ( چاندی کے برتن ) میں نہ پلا ئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہے ۔ " سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریرنہ پہنو کیونکہ یہ چیز یں دنیا میں ان ( کا فروں ) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھا رے لیےہیں ۔
ابن ابی عمر نے ہمیں یہی حدیث بیان کی کہا : ہمیں سفیان نے ابو فروہ جہنی سے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے پھر اس کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں " قیامت کے دن " ( کے الفاظ ) ذکر نہیں کیے ۔
ابن ابی نجيح نے پہلے ہمیں مجا ہد سے ، انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی ۔ پھر ہمیں یزید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر ہمیں ابو فروہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی اور میرا خیال یہ ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے بھی یہ حدیث ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ، انھوں نے کہا : ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( انکے دستے میں ) تھے ۔ پھر اسی کے مانند بیان کیا اور " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے ۔
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پا نی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روا یت کے مانند بیان کیا ۔
وکیع محمد بن جعفر ابن ابی عدی اور بہز ، ان سب نے شعبہ سے معاذ کی حدیث کے مانند انھی کی سند کے ساتھ حدیث روایت کی اور اکیلے معاذ کے سوا ، ان میں سے کسی نے حدیث میں " میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا " کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سب نے یہی کیا : حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا ۔
منصور اور ابن عون دونوں نے مجا ہد سے ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔
سیف نے کہا کہ میں نے مجا ہد کو کہتے و ئے سنا ، عبد اللہ الرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لا یا تو انھوں ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہو ئے سناہے ۔ " ریشم پہنو دیباج پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان ( قیمتی دھاتوں ) کی رکابیوں ( پلیٹوں ) میں کھا ؤکیونکہ یہ برتن دنیا میں ان ( کفار ) کے لیے ہیں ۔