سفیان بن عینیہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا : " تم نہیں جانتے اس کے کس حصےمیں برکت ہے ۔
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان ( ثوری ) نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھو ں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کالقمہ گر جائے تو وہ اسے ا ٹھا لےاور اس پر جو ناپسندیدہ چیز ( تنکا ، مٹی ) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کرلے اور اسے کھالے ، اس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے ، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے ۔ اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے ، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
ابو داود حفری اورعبدالرزاق دونوں نےسفیان ( ثوری ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے : "" اوراپنا ہاتھ رومال سے نہ پونچھے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوالے "" اور اس کے بعدوالے الفاظ بھی ہیں ۔
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتاہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی ، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گرجائے تو جو کچھ اسے لگ گیا ہے ۔ اسے صاف کرکے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب ( کھانے سے ) فارغ ہوتوا پنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی : " جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے " آخرتک اور حدیث کاابتدائی حصہ؛ " شیطان تمہارے پا س حاضر ہوتا ہے " ذکر نہیں کیا ۔
محمد بن فضیل نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح اور ابوسفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( انگلیاں ) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابو سفیان سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، اور لقمے کا ذکر کیا ، ان دونوں ( جریر اورابومعاویہ ) کی حدیث کی طرح ۔