حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سےروایت کہ نبیﷺ نےابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’’پروردگار ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے ( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں ، لہٰذا ان میں سے ) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ۔ ‘ ‘ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قول ’’اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو بلاشبہ توہی غالب حکمت والا ہے ‘ ‘ کی تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھ اٹھ کر فرمایا : ’’ اے اللہ ! میری امت ، میری امت ‘ ‘ اور ( بے اختیار ) روپڑے ۔ اللہ تعالیٰ نےحکم دیا : اے جبرئیل !محمدﷺ کے پاس جاؤ ، جبکہ تمہارا رب زیادہ جاننےوالا ہے ، ان سے پوچھو کہ آپ کو کیا بات رلا رہی ہے ؟ جبریل علیہ السلام آپ کےپاس آئے اور ( وجہ ) پوچھی تو رسو ل ا للہﷺ نے جو بات کہی تھی ان کو بتائی ، جبکہ وہ ( اللہ اس بات سے ) زیادہ اچھی طرح آگاہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل! محمدﷺ کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور ہم آپ کو تکلیف نہ ہونے دیں گے ۔
Sahih MuslimHadith 202