مطرف نے عامر ( شعبی ) سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میرے ماموں حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کردی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ گوشت کی ایک ( عام ) بکری ہے ( قربانی کی نہیں ۔ ) " انھوں ( حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس کی قربانی کردو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے ( کھانے کے ) لئے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قر بانی مکمل ہوگئی اوراس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا ہے ۔
ہشیم نے داود سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ان کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا اور کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتاہے ۔ ( اور اس کی چاہت باقی نہیں ر ہتی ) اور میں نے اپنے بچوں ، ہمسایوں اور گھروالوں ( کو کھلانے ) کےلیے قربانی کا جانور جلدی ذبح کردیاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی اور ( جانور ) ذبح کرو ۔ " انھوں نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی ( کھیری ) بکری ہے ۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ تمہاری بہترین قربانی ہے ( تم اسی کی قربانی کرلو ) اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے بھی ایک سالہ بکری کی قربانی کافی نہیں ہوگی ۔
ابن ابی عدی داؤد سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے اور انھوں نے حضرت ابراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص بھی نماسز سے پہلے ہر گز ( قربانی کا جا نور ) ذبح نہ کرے ۔ " تو میرے ماموں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جا تا ہے ۔ پھر ہشیم کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
(فراس نے عامر سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری قربانی کرے ، وہ نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہ کرے ۔ " میرے ماموں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ایک بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ وہ ذبیحہ ) ہے جسے تم نے اپنے گھر والوں ( کو کھلا نے ) کے لیے جلد ذبح کر لیا ۔ " انھوں نے کہا : میرے پاس ایک بکری ہے جو بکریوں سے بہتر ہے آپ نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کر دو وہ بہترین قربانی ہے ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے زبید یا می سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آج کے دن ہم جس کا م سے آغاز کریں گے ( وہ یہ ہے ) کہ ہم نماز پڑھیں گے ، پھر لوٹیں گے ، اور قربانی کریں گے ۔ جس نے ایسا کیا ، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے ( پہلے ) ذبح کر لیا تو وہ گو شت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے ۔ وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے ۔ " حضرت ابو بردہ بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اس سے پہلے ) ذبح کر چکے تھے انھوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتا بکرے سے بہتر ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم اس کو ذبح کردو ، اور تمھا رے بعد یہ کسی کی طرف سے کا فی نہ ہو گی ۔
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے زبید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت براءعازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
منصور نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن کے بعد ہمیں خطبہ دیا ، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
عاصم احول نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے ۔ " ایک شخص نے کہا : میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی ( کھیری ) بکری ہے جو گوشت والی دوبکریوں سے بہترہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کردو ، تمھا رے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کا فی نہ ہو گی ۔
محمد بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نما ز سے پہلے قربانی کا جا نورذبح کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو ۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک سالہ بکری ہے ۔ شعبہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ اور وہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے اس کی جگہ ( ذبح ) کرلو لیکن یہ تمھارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ فِي قَوْلِهِ : هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ وہب بن جریر اور ابو عامر عقدی نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرما ن "" یہ دودانتی بکری سے بہتر ہے "" کے بارے میں کسی شک کا ظہار نہیں کیا ۔