معاذ عنبری نے کہا : ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے ( کسی چیز کو ) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا : کنکر سے نشانہ مت بناؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے ۔ یا کہا ۔ کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے ، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جاسکتا ہے ۔ نہ دشمن کو ( پیچھے ) دھکیلا جاسکتاہےیہ ( صرف ) دانت توڑتاہے یا آنکھ پھوڑتا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا : میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا ( کہا : ) آپ اس سے منع فرماتے تھے ، پھر میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو!میں اتنا اتنا ( عرصہ ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا ( بات تک نہ کروں گا)
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں کہمس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
محمد بن جعفر اورعبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے عقبہ بن صہیان سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ۔ ابن جعفر نے اپنی روایت میں یہ بیا ن کیا کہ آپ نے فرمایا؛ " یہ نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، نہ شکار مارتا ہے ، بس دانت توڑتا ہے اورآنکھ پھوڑتاہے ۔ " اور ابن مہدی نے ( اپنی روایت میں ) کہا؛ " یہ ( کنکر ، روڑا ) دشمن کو ہلاک نہیں کرتا " ( انھو ں نے ) آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ۔
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی قریبی شخص نے کنکر سے نشانہ لگایا ۔ انھوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر کے ساتھ نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ نہ کسی جانور کو شکارکرتاہے ، نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، البتہ یہ دانت توڑتاہے ۔ اور آنکھ پھوڑتا ہے ۔ " ( سعیدنے ) کہا : اس شخص نے دوبارہ یہی کیا تو حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے تم کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر کنکر ماررہے ہو!میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔
ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔