امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ۔
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف کی بنا پر کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ، دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے ۔
حماد نے ایوب سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قرآن کے ساتھ سفر نہ کرو ، کیونکہ مجھے اس بات پر اطمینان نہیں کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ۔ "" ایوب نے کہا : قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ قرآن مجید کے ذریعے سے ( اسے آڑ بنا کر ) تمہارے ساتھ مقابلہ کرے گا ۔
اسماعیل بن علیہ ، سفیان اور ثقفی سب نے ایوب سے حدیث بیان کی ، ایوب اور ضحاک بن عثمان نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن علیہ اور ثقفی کی حدیث میں ہے : "" مجھے خوف ہے "" اور سفیان اور ضحاک بن عثمان کی حدیث میں ہے : "" اس خوف سے کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے ۔