لیث نے ابوزبیر سے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔ وہ ببول ( کیکر ) کا درخت تھا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے اس بات پر آپ سے بیعت کی کہ ہم فرار نہ ہوں گے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی
سفیان نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کی ، ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں گے
محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا : ہم چودہ سو تھے ، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا ، وہ ببول کا درخت تھا ، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے ، ( اس نے آپ سے بیعت نہیں کی ) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا
مجھے ابراہیم بن دینار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مجالد کے آزاد کردہ غلام حجاج بن محمد اعور نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے سوال کیا گیا تھا : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا : نہیں ، البتہ آپ نے وہاں نماز پڑھی تھی اور حدیبیہ کے درخت کے سوا آپ نے کسی اور درخت کے نیچے بیعت نہیں لی ۔ ابن جریج نے کہا : انہیں ابوزبیر نے یہ بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنویں پر دعا کی تھی
عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : "" آج تم روئے زمین کے بہترین افراد ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں دیکھ سکتا تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا
عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ ( بیعت رضوان کرنے والوں کی تعداد ) کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) ایک ہزار پانچ سو لوگ تھے
حصین نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) پندرہ سو تھے
اعمش نے کہا : مجھے سالم بن ابی جعد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا : ایک ہزار چار سو ۔ ( یعنی بیعت کرنے والے)