بشر بن مفضل نے ابو مسلمہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو نضرہ سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جہاں تک دوزخ والوں کی بات ہے تووہ لوگ جو ( ہمیشہ کے لیے ) اس کے باشندے ہیں نہ تو اس میں مریں گے اور نہ جئیں گے ۔ لیکن تم ( اہل ایمان ) میں سے جن لوگوں کو گناہوں کی پاداش میں ( یا آپ نے فرمایا : خطاؤں کی بنا پر ) آگ کی مصیبت لاحق ہو گی تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک طرح کی موت طاری کر دے گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو سفارش کی اجازت دے دی جائے گی ، پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلادیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا : اے اہل جنت ! ان پر پانی ڈالو تو اس میں بیج کی طرح اگ آئیں گے جو سیلاب کے خس و خاشاک میں ہوتا ہے ۔ ‘ ‘ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : ایسا لگتا ہے جیسے رسول اللہ ﷺ صحرائی آبادی میں رہے ہیں ۔
Sahih MuslimHadith 185 (2 narrations)
185.01
185.02
(بشر کےبجائے ) شعبہ نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی کہا ، میں نے ابونضرہ سے سنا ، ( انہوں نے ) حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی روایت میں فی حمیل السیل ’’ سیلاب کےخس و خاشاک میں ‘ ‘ ( کے جملے ) تک بیان کی اور بعد والاحصہ بیان نہیں کیا ۔