عبیداللہ بن عمر ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ( بن زید لیثی ) سب نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص حاكم ہے اور ہر ایك سے سوال ہوگا اس كی رعیت كا ( حاكم سے مراد منتظم اور نگراں كار اور محافظ ہے ) پھر جو كوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں كا حاكم ہے اور اس سے سوال ہوگا اس كی رعیت كا كہ اس نے اپنی رعیت كے حق ادا كیے ان كی جان و مال كی حفاظت كی یا نہیں اور آدمی حاكم ہے اپنے گھر والوں كا اس سے سوال ہوگا ان كا اور عورت حاكم ہے اپنے خاوند كے گھر كی اور بچوں كی اس سے ان كا سوال ہو گا اور غلام حاكم ہے اپنے مالك كے مال كا اس سے اس كا سوال ہوگا . غرض یہ ہے كہ تم میں سے ہر ایك شخص حاكم ہے اور تم میں سے ہر ایك سے سوال ہوگا اس كی رعیت كا
Sahih MuslimHadith 1829 (3 narrations)
1829.01
1829.04
اسماعیل بن جعفر نے حضرت عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نافع کی حدیث کے مانند ۔ ( یونس نے ) زہری کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : کہا : میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اپنے باپ کے مال کا راعی ( محافظ ) ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا
1829.05
بسر بن سعید نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے