Sahih Muslim
1713.01

یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑنے والوں کا شور و غوغا سنا ، آپ باہر نکل کر ان کی طرف گئے اور فرمایا : " میں ایک انسان ہوں اور میرے پاس جھگڑا کرنے والے آتے ہیں ، ہو سکتا ہے ان میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ زبان آور ہو ، میں سمجھوں کہ وہ سچا ہے اور میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں ۔ میں جس شخص کے حق میں کسی ( دوسرے ) مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے ، وہ چاہے تو اسے اٹھا لے یا چاہے تو چھوڑ دے

1713.02

صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ معمر کی حدیث میں ہے : انہوں ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر جھگڑنے والوں کا شور سنا

1713.03

ابومعاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل کے ہر پہلو کو بیان کرنے کے لحاظ سے دوسرے کی نسبت زیادہ ذہین و فطین ( ثابت ) ہو اور میں جس طرح اس سے سنوں اسی طرح اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، تو جس کو میں اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں وہ اسے نہ لے، میں اس صورت میں اس کے لیے آگ کا ٹکرا کاٹ کر دے رہا ہوں گا

1713.04

ابومعاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو ، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل کے ہر پہلو کو بیان کرنے کے لحاظ سے دوسرے کی نسبت زیادہ ذہین و فطین ( ثابت ) ہو اور میں جس طرح اس سے سنوں اسی طرح اس کے حق میں فیصلہ کر دوں ، تو جس کو میں اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں وہ اسے نہ لے ، میں اس صورت میں اس کے لیے آگ کا ٹکرا کاٹ کر دے رہا ہوں گا