عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے آپ نے فرمایا بیعت کرو مجھ سے اس اقرار پر کہ اﷲ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں کرنے کے اور زنا اور چوری اور ناحق خون جس کو اﷲ تعالیٰ نے حرام کیا نہیں کریں گے ۔ پھر جو کوئی اپنے اقرار کو پورا کرے گااس کا ثواب اﷲ تعالیٰ پر ہوگااور جو کوئی کام ان میں سے کر بیٹھے گا پھر اس کو دنیا میں اس کی سزا ملے گی ( یعنی حد لگے گی ) تو وہی اس کیگ ناہ کا کفارہ ہے اور جو دنیا میں اﷲ تعالیٰ اس کے کام کو چھپالے تو ( عاقبت میں ) اﷲ تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اس کو معاف کردے چاہے عذاب کرلے ۔
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا : اس کے بعد آپ نے ہمارے سامنے عورتوں ( کے احکام ) والی ( سورۃ الممتحنہ کی ) یہ آیت تلاوت کی : " کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں
ابو اشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ( اسی طرح ) عہد لیا جس طرح آپ نے عورتوں سے عہد لیا تھا : ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ، چوری نہ کریں گے ، زنا نہ کریں گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے اور ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے : " تم میں سے جس نے ایفا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ایسا کام کیا جس پر حد ہے اور اس کو حد لگا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہو گی ، اور جس کا اللہ نے پردہ رکھا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابوالخیر سے ، انہوں نے ( عبدالرحمان ) صنابحی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں ان نقیبوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ۔ اور کہا : ہم نے اس بات پر آپ کے ساتھ بیعت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ، زنا نہ کریں گے ، چوری نہ کریں گے ، کسی زندہ ( انسان ) کو ناحق قتل نہ کریں گے جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے ، ڈاکے نہ ڈالیں گے اور نافرمانی نہ کریں گے ۔ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو جنت ہے اور اگر ہم نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا ۔ ابن رمح نے اس کا فیصلہ کے بجائے " اس شخص کا فیصلہ اللہ عزوجل کے سپرد ہو گا " کہا
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبادہ بن ولید سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بات پر بیعت کی کہ مشکل میں اور آسانی میں اور خوشی میں اور ناخوشی میں اور خود ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ جن کے پاس امارت ہو گی ، امارت کے معاملے میں ان سے تنازع نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے ( ہمیشہ ) حق نہیں گے اور اللہ کے ( دین پر چلنے کے ) معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے
یہی حدیث نے ہمیں ابن نمیر نے بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عجلان ، عبیداللہ بن عمر اور یحییٰ بن سعید نے عبادہ بن ولید سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی
یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی ، ابن ادریس کی حدیث کے مانند
جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے ، کہا : ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ ( اس وقت ) بیمار تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہوا اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، ( حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ، ہم نے آپ کےساتھ بیعت کی ، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں ، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے ۔ کہا : ہاں ، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے ( کفر ہونے پر ) تمہارے پاس ( قرآن اور سنت سے ) واضح آثار موجود ہوں