بدیل نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے صفوان بن یعلیٰ سے روایت کی کہ یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ کا ایک ملازم تھا کسی آدمی نے اس کی کلائی کو دانتوں سے کاٹا ، اس نے اسے کھینچا تو اس کا سامنے والا دانت گر گیا ، معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک لایا گیا تو آپ نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا : " تم چاہتے تھے کہ اسے ( اس کی کلائی کو اس طرح ) چبا ڈالو جس طرح سانڈ چناتا ہے ۔
ہمام نے کہا : ہمیں عطاء نے صفوان بن یعلیٰ بن منیہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ پر دانتوں سے کاٹا تھا ، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس ، یعنی جس نے کاٹا تھا ، کے سامنے والے دو دانت نکل گئے ، کہا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا : " تم یہ چاہتے تھے کہ اسے اس طرح چباؤ جس طرح سانڈ چباتا ہے؟
ابواسامہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے عطاء نے خبر دی ، کہا : مجھے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی ، کہا : اور حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے : وہ غزوہ میرے نزدیک میرا سب سے قابلِ اعتماد عمل ہے ۔ عطاء نے کہا : صفوان نے کہا : یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا ایک ملازم تھا ، وہ کسی انسان سے لڑ پڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا ۔ ۔ کہا : مجھے صفوان نے بتایا تھا کہ ان میں سے کس نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تھا ۔ ۔ جس کا ہاتھ کاٹا جا رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانتوں میں سے ایک نکال دیا ، اس پر وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس کے دانت ( کے نقصان ) کو رائیگاں قرار دیا
اسماعیل بن ابراہیم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی