Sahih Muslim
1659.01

عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابو مسعود! جان لو ۔ " میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا ، کہا : جب وہ ( کہنے والے ) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، آپ فرما رہے تھے : " ابو مسعود! جان لو ، ابو مسعود! جان لو ۔ " کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا ، تو آپ نے فرمایا : " ابو مسعود! جان لو ۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا

1659.02

جریر ، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی ( سابقہ ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر جریر کی حدیث میں ہے : آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا

1659.03

ابومعاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اپنے غلام کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابومسعود! جان لو ، اس پر تمہارا جتنا اختیار ہے ، اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ جھلساتی یا تمہیں آگ چھوتی

1659.04

ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انہوں نے سلیمان سے ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے تو اس نے اعوذباللہ ( میں تمہاری مار سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ) کہنا شروع کر دیا ۔ کہا : تو ( وہ اس کی بات کی طرف متوجہ نہ ہو پائے اور ) اسے مارتے رہے ۔ پھر اس نے کہا : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں تو ( انہیں اندازہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ) انہوں نے اسے چھوڑ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! اللہ تم پر اس سے زیادہ اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس پر رکھتے ہو ۔ " کہا : تو انہوں نے اسےآزاد کر دیا ۔

1659.05

محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی اور انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے : " میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں " ( اور ) " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں