امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سونے کے عوض سونے کی بیع نہ کرو ، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور اسے ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ کرو اور نہ تم چاندی کی بیع چاندی کے عوض کرو ، الا یہ کہ مثل بمثل ( یکساں ) ہو اور اسے ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ کرو اور اس میں سے جو غیر موجود ہو اس کی بیع موجود کے عوض نہ کرو ۔
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ بنو لیث کے ایک شخص نے حجرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کرتے ہیں ۔ قتیبہ کی روایت میں ہے : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ چلے اور نافع بھی ساتھ تھے ۔ ۔ اور ابن رمح کی حدیث میں ہے : نافع نے کہا : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ چلے ، میں اور لیثی بھی ان کے ساتھ تھے ۔ ۔ حتی کہ وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اور کہا : اس آدمی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی چاندی کے عوض بیع سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ برابر برابر ہو اور سونے کی سونے کے عوض بیع سے ( منع فرمایا ) الا یہ کہ برابر برابر ہو؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی دو انگلیوں سے اپنی دونوں آنکھوں اور دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا : میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " تم سونے کے عوض سونے کی اور چاندی کے عوض چاندی کی بیع نہ کرو مگر یہ کہ یکساں اور اسے ایک دوسرےسے کم زیادہ نہ کرو اور اس میں سے کسی غیر موجود چیز کی موجود کے ساتھ بیع نہ کرو ، الا یہ کہ دست بدست ہو ۔
جریر بن حازم ، یحییٰ بن سعید اور ابن عون ، سب نے نافع سے روایت کی ، لیث کے نافع سے ، ان کی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی طرح ۔
ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سونے کی سونے کے عوض اور چاندی کی چاندی کے عوض بیع نہ کرو مگر یہ کہ وزن بوزن مثل بمثل ( معیار میں یکساں ) برابر برابر ہو ۔
اسماعیل بن مسلم عبدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو ، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہاتھوں ہاتھ ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا لین دین کیا ، اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔
سلیمان ربعی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضترت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے ( کی بیع ) برابر مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہے ۔ ۔ ۔ " ( آگے ) سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا ۔