علاء بن عبد الرحمن نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا ، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی ۔ جب وہ مغرب سے طلوع ہوجائے گا تو سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے ، اس دن ’’کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان ( کی حالت ) میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی ۔ ‘ ‘ ( عمل سے تصدیق نہ کی تھی ۔)
ابو زرعہ ، عبدالرحمن اعرج اور ہمام بن منبہ سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مذکور ہے جو علاء نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہا ں تک کہ تمھا رے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی وہ مال ( پانی کی طرح ) بہے گا یہاں تک کہ ما ل کے مالک کو یہ فکر لا حق ہو گی کہ اس سے اس ( مال ) کو بطور صدقہ کو ن قبول کرےگا ؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلا یا جا ئے گا تو وہ کہے گا : مجھے اس کی کو ئی ضرورت نہیں ۔
شعیب نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمٰن زہری نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زمانہ باہم قریب ہو جائے گا اور علم کم ہو جائے گا ۔ " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
معمر نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " زمانہ باہم قریب ہو جائے گا اور علم اٹھا لیا جائے گا ۔ " پھر ان دونوں ( یونس اور شعیب ) کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
علاء کے والد عبدالرحمٰن ، سالم ، ہمام بن منبہ اور ابویونس سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ، جس طرح زہری نے حمید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی مگر انہوں نے یہ بیان نہیں کیا : " اور ( دلوں میں ) بخل اور حرص ڈال دیا جائے گا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ بہت زیادہ ہرج ( جانوں کی تباہی ) ہوجائے گی؟انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج ( تباہی ) کیا ہو گی؟فرمایا : " قتل ، قتل ۔